الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پرانی مسجد کو چھوڑ کر نئی مسجد میں جانا

سوال

ایک مسجد جو تقریباً عرصہ سو سال سے قائم ہے جس میں نماز پنجگانہ وجمعہ ادا کرتے چلے آئے ہیں، مگر ایک رئیس صاحب نے دوسری مسجد بنوا کر اول کے نمازیوں کو بہکانا شروع کر دیا ہے، کہ جس کے اثرات سے اکثر نمازی اب مسجد ثانی میں نماز ادا کرتے ہیں، لہذا بہکانے والوں کو کیا کہا جائے گا، اور ایسے نمازیوں کی نماز کیسی ہوگی؟ اور مسجد ثانی حکم میں مسجد کے ہوگی یا نہیں۔

جواب

مسجد ثانی بنوانے کے اسباب کیا ہیں، اگر مسجد اول میں جگہ کی قلت اور نمازیوں کی کثرت ہے تو مسجد ثانی یقیناً مسجد ہے، اور ایسی حالت میں نمازیوں کی نماز میں کوئی اشکال نہیں ہے البتہ نمازیوں کو بہکانا برا ہے، بہتر یہ ہے کہ جس نمازی کے قریب جو مسجد ہو اس میں نماز پڑھے تا کہ دونوں مسجد آباد رہیں اگر کسی اور سبب سے دوسری مسجد بنوائی گئی ہے، تو اس کے معلوم ہونے پر حکم تحریر کیا جائیگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو