کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کر کے مسجد تعمیر کرنا
سوال
گاؤں والوں نے ایک زمین پر ناحق قبضہ کر لیا اور مقدمہ لڑا کر مقدمہ جیت لیا اور اس پر مسجد بنالی جبکہ ایک مسجد پرانی موجود ہے، اور وہ بھی نمازیوں سے پر نہیں ہوتی کیا یہ مسجد شرعی مسجد ہوگی، اور ایسی مسجد میں نماز پڑھنے سے نماز ہو جائیگی، اور جس نے مقدمہ لڑا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
کسی زمین پر ناحق قبضہ کرنا اور غلط مقدمہ لڑا کر اس کو حاصل کر لینا اور اس پر مسجد تعمیر کر لینا شرعاً درست نہیں، یہ کوئی دین کا کام نہیں ہے، یہ تو ظلم ہے جبکہ ایک مسجد پرانی وہاں موجود ہے، وہی نمازیوں سے پر نہیں ہوتی تو دوسری مسجد بنانے کی کیا ضرورت ہے، تاہم اگر مسجد بنالی گئی تو اس کی جتنی قیمت ہے وہ مالک کو دی جائے یا اس کے عوض زمین دیجائے، وہ مالک خوشی سے اپنی اس زمین کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔