سرکاری زمین پر مسجد بنانا
سوال
ایک تالاب دھوبیوں کو الاٹ کیا گیا، تالاب کے پاس کچھ افتادہ زمین ہے، ہم نے اس پر چھان ڈال رکھی ہے، اور پانچوں وقت اسمیں نماز پڑھ لیتے ہیں، حکومت کے کاغذات میں بھی یہ جگہ مسجد ہی لکھی ہے، کچھ لوگ اس کو غصب کرنے کی وجہ سے ناجائز بتلاتے ہیں، شرعی حکم سے مطلع فرمائیں؟
جواب
اگر وہ زمین کسی خاص شخص کی ملک نہیں بلکہ افتادہ ملک سرکار ہے، اور سب کی اجازت ورضامندی سے وہاں اذان وجماعت ہورہی ہے، اور سرکار نے اس کو مسجد تسلیم کر لیا ہے، تو اس زمین کو غصب کہنا درست نہیں، جو شخص اس کے مسجد ہونے میں رکاوٹ ڈالتا ہے، وہ غلطی پر ہے، اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے مسلمان وہاں با قاعدہ مسجد بنالیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔