الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دوسرے کی زمین کو مسجد بنالینا

سوال

زید نے ایک زمیندار شخص سے ایک زمین خریدی تھی، زید پاکستان چلا گیا، محکمہ کسٹوڈین جو کہ ایسے مکانات اور زمین کو سرکاری طور پر اپنے قبضہ میں کرتی ہے، جس کا کوئی مالک نہ ہو، اس محکمہ نے جب یہ دیکھا کہ زید پاکستان چلا گیا تو اس کی زمین اپنے قبضہ میں کر لیا یعنی گورنمنٹ کا ہو گیا، یہ محکمہ والے اس زمیندار کے گھر رہتے تھے، جس سے زید نے یہ زمین خریدی تھی،محکمہ والوں نے یہ زمین اسی زمیندار کو دیدی یا تو قیمتا یا رشو تا یا اس وجہ سے کہ وہ اس کے گھر رہتے تھے، اس لئے بہر کیف مالک پھر بھی زمیندار بن گیا، اس کے بعد اس زمیندار…

جواب

جن لوگوں نے مسجد بنائی وہ تو کسی جہت سے بھی مالک نہیں انہوں نے گویا زمین غصب کر کے اس پر مسجد بنادی ہے، وہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے، بکر، خالد عمر نے جب وہ زمین خرید لی تو ضابطہ میں وہ مالک ہو گئے، زید کے پاکستان چلے جانے سے جب محکمہ گورنمنٹ نے اس پر مالکانہ قبضہ کر لیا تھا، تو زید کی ملک ختم ہو گئی تھی، مسجد بنانے کیلئے زید کی اجازت کی تو ضرورت نہیں تھی، کیونکہ وہ مالک ہی نہیں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو