الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سرکاری زمین پر مسجد

سوال

عرصہ دراز سے ایک سرکاری زمین پر ایک خاندان قابض ہے، مگر سالانہ کرایہ سرکار کو ادا کرتے رہے، کچھ عرصہ پہلے اس خاندان نے اس زمین کا کچھ حصہ برائے مکتب اور مسجد وقف کر دیا، گورنمنٹ نے اعتراض کیا مگر جب مسجد کا نام سنا تو اجازت دیدی اور زمین کی ایک حد مقرر کر دی، اب مسجد بن گئی اور چھ سال سے جماعت ہورہی ہے اور مکتب میں بچے پڑھ رہے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ یہ مسجد شرعی مسجد ہوگی یا نہیں؟ جبکہ زمین گورنمنٹ واپس نہیں لے گی۔ نوٹ: سائل نے دو نقشے مسجد قدیم وجدید بھی سوال کے ساتھ بھیجے؟

جواب

یہ سب زمین ملک سرکار تھی، جن لوگوں کے تصرف میں تھی ان کی مملوک نہیں تھی، وہ اس کا کرایہ ادا کرتے تھے ان کو وقف کرنے اور مسجد ومکتب بنانے کا حق نہیں تھا لیکن جب سرکار کی طرف سے مسجد ومکتب بنانے کی اجازت ہے، پھر سر کار اس کو خالی نہ کرائے گی نہ کرایہ وصول کرے گی، تو اس اجازت کے بعد حسب صوابدید مصلحت مسجد ومکتب کیلئے جگہ متعین کر کے ہر دو کی تعمیر درست ہے خواہ نقشہ سابق کے موافق…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو