مسجد قدیم میں پنجوقتہ نماز ہو اور جمعہ کے لئے مستقل مسجد بنائی جائے
سوال
اگر کسی مسجد میں صرف پنج وقتہ نماز ادا کر لیا کریں وہی ایک یا دو آدمی اور قریب ہی مسجد صرف جمعہ پڑھنے کے ارادہ سے بنائی جائے تو اس صورت میں اس قریب موضع میں مسجد صرف جمعہ کے لئے بنانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اگر مسجد قدیم میں لوگ جمعہ پڑھنے کے لئے نہیں آتے اور دوسری جگہ جامع مسجد کی ضرورت ہے تو دوسری جگہ جامع مسجد بنانا جائز ہے لیکن علاوہ جمعہ کے دوسری نمازیں بھی اس میں پڑھا کریں تا کہ وہ آباد رہے صرف جمعہ کے لئے مخصوص نہ کریں، اور مسجد قدیم کو حتی الوسع آباد رکھنا ضروری ہے
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔