اختلاف کی وجہ سے دوسری مسجد مشترکہ زمین میں بنانا
سوال
ایک موضع میں پہلے سے ایک پختہ مسجد موجود ہے چند روز سے مسلمانوں میں نا اتفاقی ہو کر دو پارٹی ہو گئیں، ایک پارٹی نے اس نا اتفاقی کے باعث ایک مسجد جدید تعمیر کی لیکن جس جگہ میں مسجد تعمیر کی یہ جگہ مسلمانوں کی مشترکہ ہے اور اس کے مالک دونوں پارٹیوں کے لوگ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں، نیز کونسی مسجد میں ثواب زیادہ ہے، مسجد کی زمین دونوں پارٹیوں کی ملک ہے، لیکن قبضہ میں صرف دوسری پارٹی کے ہے۔
جواب
اگر مشتر کہ زمین میں سب مالکوں کی اجازت سے بنائی گئی تو دونوں میں نماز جائز ہے، اور یہ کوشش کرنا کہ کسی ایک مسجد میں نماز نہ ہو گناہ ہے لیکن پہلی یعنی پرانی مسجد میں افضل ہے، تاہم نئی مسجد میں جب با قاعدہ مسجد بن گئی تو اس کو بھی آباد رکھنا ضروری ہے، اور اگر نئی مسجد بغیر سب مالکوں کی اجازت کے بنی ہے تو جب تک سب مالک اجازت نہ دیدیں اس میں نماز نہ پڑھی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔