الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک مسجد ہوتے ہوئے دوسری بڑی مسجد بنانا

سوال

ایک محلہ میں مسجد موجود ہے، نمازی بھی بہت تھوڑے سے ہیں، مگر اہل محلہ نے دوسری بڑی مسجد بنانے کا ارادہ کر لیا ہے، جس کی بنیاد بھی ڈالدی ہے اب دنیا بھر میں چندہ کرتے پھریں گے، کیا یہ طریقہ مناسب ہے؟

جواب

یہ طریقہ خلاف عقل ہے، جب وہاں کے نمازیوں کے لئے وہ مسجد کافی ہے اور اس کو بھی پوری طرح آباد نہیں کر پاتے تو دوسری مسجد کے لئے چندہ کرتے پھرنا غلط ہے، شرعاً اس کو اجازت نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو