الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نئی آبادی میں نئی مسجد بنانا

سوال

ایک نو آباد محلہ جس سے موضع کی قدیم دونوں مسجدیں تقریباً ایک ایک فرلانگ کے فاصلہ پر ہیں، اذان کی آواز بھی ہمیشہ سنائی نہیں دیتی محلہ میں نمازی با جماعت ادا کرنے والے بھی بہت کم ہیں، چند ایسی وجوہات کے تحت محلہ مذکورہ میں نئی مسجد بنانے کا ارادہ کیا جا رہا ہے، تعمیر مسجد جائز ہے یا نہیں؟

جواب

مسجد مسلمانوں کی اہم ضرورت ہے، جہاں آباد ہوں گے مسجد کا بھی اہتمام کریں گے، اور کرنا چاہئے اس نو آباد محلہ میں ضرورت ہو تو وہاں بھی بنالی جائے مگر اس کو آباد رکھنے کی فکر وکوشش بھی لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ مسجد تو جوش میں بنالیں اور آباد نہ رکھ سکیں اس لئے تبلیغ کر کے مسلمانوں کو نمازی بنانا زیادہ ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو