ایک مسجد کی چٹائی دوسری مسجد میں دینا
سوال
زید جس شہر میں رہتا ہے اس کے ایک محلہ میں ایک مسجد ہے جس میں جائیداد کافی وقف ہے، اور متولی صاحب اس کے مالک ہیں، کیونکہ وہی ساری جائیداد کے متولی ہیں، اس میں فرش پر بچھانے کے لئے چٹائیاں بہت ہیں بعض ضرورت مسجد سے زائد ہیں تو کیا وہ دوسری کسی مسجد میں اس کی ضرورت کے تحت دے سکتے ہیں، تو کسی صورت میں مفصل تحریر فرما کر عند الله ماجور ہوں؟
جواب
اگر مسجد میں چٹائیاں زائد موجود ہیں اور حفاظت کی کوئی صورت نہیں خراب اور ضائع ہو رہی ہیں تو زائد چٹائیاں ایسی مساجد میں بچھا دینا درست ہے، جہاں ضرورت ہو، متولی اور دیگر اہل الرائے حضرات کے مشورہ سے دے سکتے ہیں، بلا مشورہ نہ دیں تا کہ کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔