نقشہ اوقات نماز ایک مسجد سے دوسری مسجد میں منتقل کرنا
سوال
ایک شخص نے زید کی مسجد میں اپنی ذاتی آمدنی سے اوقات کا نقشہ مسجد میں لگایا اور وقف کر دیا، عرصہ ۶ سال سے وہ بالکل بے سود اور بیکا رو بے عمل لگا ہوا ہے، یعنی اس مسجد کے امام اس پر عمل نہیں کرتے، ایسی حالت میں اگر وہ وقف شدہ نقشہ اوقات نماز کسی دوسری مسجد میں جہاں پابندی سے نماز ہو رہی ہے اور اس مسجد میں نقشہ بھی نہیں، اس مسجد سے نکال کر اس ضرورت والی مسجد میں وقف کرایا جائے تو درست ہوگایا پرانی مسجد میں وقف ہونے کی بنا پر نئی مسجد میں درست نہ ہوگا اور وقف کرنے والے کو بے عمل والی مسجد میں لگا رہنے سے ثواب ملے گا یا…
جواب
اگر اصل مالک نے متعین طور پر اسی مسجد کے لئے وقف کیا ہے اور وہ وقف صحیح بھی ہو گیا تو اس کو پھر دوسری مسجد میں منتقل کرنے کیلئے فقہاء کے دو قول ہیں، راجح یہ ہے کہ منتقل کرنا جائز نہیں، لہذا امام اور مقتدی کو چاہئے کہ اس نقشہ سے کام لیں، تا کہ واقف کی نیت پوری ہوا اور اس کے ثواب میں اضافہ ہو نفس وقف کا ثواب بہر حال اس کو حاصل ہے، ہاں اگر خدانخواستہ مسجد غیر آباد ہو جائے تو پھر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔