مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنا
سوال
ملک بنگال میں ایک جگہ مسجد تھی جس میں جمعہ پڑھا کرتے تھے، اب اس جامع مسجد میں کوئی شخص نماز پڑھنے نہیں آتا، اگر آتے ہیں تو صرف ایک یا دو آدمی اور اس سے قریب ہی نے ایک اور موضع ہے جہاں بہت آدمی رہتے ہیں وہ لوگ اس کو منتقل کر کے اپنے یہاں لے جانا چاہتے ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس کو منتقل کرنا جائز ہے یا نہیں، اور منتقل شدہ جامع مسجد میں جمعہ جائز ہوگا یا نہیں، اور اب قدیم جامع مسجد کے متعلق کیا حکم ہے، جب کہ وہاں سے سارا سامان اٹھالیا گیا صرف زمین مسجد کی باقی ہے؟
جواب
جب کہ اس پہلی مسجد میں بعض آدمی نماز پڑھنے کے لئے اب بھی آتے ہیں تو اس کو کسی دوسری مسجد کی طرف منتقل کرنا جائز نہیں ہے البتہ اس مسجد کے قریب آبادی کم ہونے کی وجہ سے اگر نماز جمعہ دوسری مسجد میں جس کے قریب آبادی زیادہ ہو پڑھ لی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بشرطیکہ وہاں شرائط جمعہ بھی متحقق ہوں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔