الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کو منتقل کرنا

سوال

کچھ عرصہ پہلے کی بنی ہوئی ایک مسجد ہے حسب ذیل چند معتبر عذر در پیش ہوئے فی الحال جہاں مسجد قائم ہے وہاں برسات کا پانی ہو کر مسجد کے اندر اور صحن کے قریب جاتا ہے، بہت دنوں تک مسجد کے احاطہ سے باہر منتقل ہو کر نماز پڑھنی پڑی ہے، مسجد کے بناتے وقت وہاں پانی نہیں ہوا کرتا تھا، مسجد کے مشرقی جانب چالیس پچاس گز فاصلہ پر بہت عمدہ جگہ موجود ہے، وہاں بھی برسات کا پانی نہیں ہوا کرتا ہے، اور نہ ہونے کا اندیشہ ہے اور یہاں پر مسجد ستون پر ہے، اور اس کے اطراف میں دیمک کی وجہ سے ستون کی کڑی وغیرہ رکھنا بھی بہت ہی دشوار ہوتا ہے،…

جواب

اگر موجودہ مسجد با قاعدہ مسجد شرعی ہے تو جب تک وہ آباد ر ہے اس کے سامان کو منتقل کرنا اور کسی نئی پرانی مسجد میں خرچ کرنا درست نہیں، البتہ اگر یہ مسجد غیر آباد ہو جاوے اور لوگ اس میں نماز پڑھنا ترک کر دیں خواہ قریب آبادی بڑھنے کی وجہ سے یا دوسری مسجد بنانے کی وجہ سے تو اس کے سامان کو دوسری مسجد میں اہل محلہ کی رائے سے منتقل کرنا درست ہوگا، اور احترام اس قدیم مسجد کا بھی واجب…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو