اختلاف مکتب فکر کی وجہ سے دوسری مسجد بنانا
سوال
دیو بندیوں کو بریلوی صاحبان برا بھلا کہتے ہیں، نیز اکابر علماء دیو بند کو برا کہتے ہیں، مسجد میں نماز پڑھنے سے جھگڑے کا زبردست خطرہ ہے، کیا اس صورت میں دوسری مسجد بنا سکتے ہیں؟ دیو بندیوں نے ایک جگہ مسجد کیلئے مقرر بھی کر لی ہے؟
جواب
اگر دوسری مسجد کی ضرورت بھی ہے اور اس میں جھگڑے سے بھی امن ہے تو دوسری مسجد بنالینا درست ہے، بلکہ قرین مصلحت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔