مسجد کے وضو خانہ اور استنجا خانہ کی چھت کا حکم
سوال
ایک مسجد ہے جس کے باہر گیٹ ہے، سامنے اس گیٹ کے اندرونی ایک طرف استنجا خانہ ہے اور دوسری طرف وضو خانہ ہے اور وضو خانہ کے اوپر استنجا خانہ کے اوپر کمرے ہیں، ان سب کے اوپر پوری ایک چھت ہے، اور یہ چھت مسجد کے فوقانی او پر حصہ سے بالکل ملی ہوئی ہے، (گویا مسجد فوقانی کا برآمدہ ہو چکا ہے) تو اب یہ چھت مسجد کے اندر داخل ہوگی یا نہیں؟ جبکہ اسکے نیچے کا حصہ مسجد میں داخل نہیں ہے، اس چھت کے بارے میں (حالانکہ بعد میں بنائی گئی ہے)
جواب
صحن کا جو حصہ نماز کے لئے تجویز کیا گیا ہے، اس کے اوپر کی چھت تو مسجد ہے لیکن وضو خانہ اور استنجا خانہ کے اوپر کی جو چھت ہے وہ شرعی مسجد نہیں، اس پر مسجد کے احکام جاری نہیں ہونگے، اگر اتفاقیہ کبھی دو چار آدمی جماعت سے رہ گئے، مثلاً سفر سے ایسے وقت آئے کہ جماعت ہو چکی ہے، تو انکو وہاں جماعت کرنا ممنوع ومکروہ نہیں، لیکن اسکی عادت نہ ڈالی جائے جو مسجد بن چکی ہے، اس کے نیچے تہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔