الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر موقوفہ زمین سے مسجد ہٹا کر وہاں بیٹھک بنانا

سوال

ایک قطعہ زمین پر تقریباً نصف صدی سے ایک مسجد قائم ہے، لیکن جس جگہ پر مسجد قائم ہے، وہ جگہ وقف شدہ نہیں ہے، باوجود اس کے مسجد عام ہے، یعنی جماعت ہوتی ہے جمعہ ہوتا ہے اذن عام ہے وغیرہ اب محلہ والوں کا خیال ہوا ہے کہ مسجد وہاں سے ہٹالی جائے، دوسری جگہ بنالی جائے، اور خالی شدہ مسجد کی جگہ کو اپنے تصرف میں لائے مثلاً بیٹھک یا بیل کے رہنے کی جگہ بنادے تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ مسجد وہاں سے ہٹانا اور خالی شدہ جگہ کا اپنے تصرف میں لانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر مالک کی اجازت اور رضامندی سے وہاں مسجد قائم کی گئی اور اذان اور جماعت پنجگانہ وجمعہ واذن عام سب کچھ نصف صدی سے ہورہا ہے، تو وہ شرعی مسجد ہے اس کو وہاں سے ہٹانا اور اس جگہ بیٹھک یا بیل کے رہنے کا گھر بنانا جائز نہیں، مسجد کے لئے تحریری وقف نامہ ضروری نہیں نہ زبان سے اس کو یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ مسجد ہے بلکہ مذکورہ بالا صورت حال کافی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو