جب مالک کی اجازت سے اذان وجماعت ہونے لگی پس وہ مسجد بن گئی
سوال
(۱) زید کی مملوکہ زمین میں باجازت زید عام قوم نے اپنے چندہ سے مسجد کی تعمیر کرادی اور چند سال میں صلوۃ با جماعت اور نماز جمعہ ہوتی رہی اس کے بعد زید کہتا ہے کہ میں نے وقف نہیں کیا خواہ میں کسی کو نماز پڑھنے دوں یا نہ پڑھنے دوں اور مسجد کو بند کر دوں، آیا اس کو نمازیوں کو مسجد کے اندر نماز پڑھنے سے روکنے کا حق ہے یا نہیں، اور زید کو علاوہ اس پیش امام کے جس کو عام قوم نے نماز پڑھانے کے واسطے مقرر کر رکھا ہے، دوسرا پیش امام جو جمعہ کا خطبہ بھی غلط پڑھتا ہے مقرر کرنا درست ہے یا نہیں؟ (۲)
جواب
جب زید کی اجازت سے مسجد بنائی گئی ہے، اور اس میں نماز با جماعت ہوتی رہی اور پھر بھی زید نے منع نہیں کیا تو شرعا وہ مسجد بن گئی اب زید کو حق نہیں کہ وہ کسی کو نماز پڑھنے سے روکے یا اس کو بند کرے۔ جو شخص غلط پڑھتا ہے، اس کو نہ زید امام مقرر کر سکتا ہے، نہ عام قوم مقرر کر سکتی ہے، صحیح پڑھنے والے اور لائق دیندار کو مقرر کرنا چاہئے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔