حساب نہ کرانے کی وجہ سے بجائے متولی کے چندہ فنڈ میں جمع کرنا
سوال
یہاں قصبہ میں متولیان مساجد کی طرف سے اکثر لوگ شاکی رہتے ہیں، چونکہ بعض متولی آمد وصرف مسجد کی حساب فہمی اہل محلہ کو نہیں کراتے حتی کہ بعض متولی سے خیانت ثابت ہوتی ہے اور یہاں قصبہ میں ایک اسلامی فنڈ ہے جس کی صورت یہ ہے کہ مسلمانان قصبہ سے حسب حیثیت چندہ قرض لیا جاتا ہے، اور غریب مسلمانوں کو بالخصوص زیور لے کر بلا سود قرضہ دیا جاتا ہے، اس لئے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ متولیان مساجد بھی سرمایہ مساجد کو اسلامی فنڈ میں اپنی ذمہ داری پر بطور قرض کے داخل کر دیں، اور جس وقت صرف کے لئے ضرورت ہوا کرے فنڈ سے واپس لیکر صرف کر…
جواب
(۱) اگر متولی مسجد سے خیانت ثابت ہو جائے تو باقاعدہ حاکم وقت کے ذریعہ اس کا ثبوت دے کر تولیت سے علیحدہ کر دیا جائے، اور اگر محض شبہ وظن ہے ثبوت نہیں تو علیحدہ نہ کیا جائے، البتہ متولی کو لازم ہے کہ جملہ حساب کتاب صاف رکھے، یا ارباب حل وعقد کی ایک کمیٹی بنادی جائے، تاکہ کسی کو شبہ واعتراض کی گنجائش نہ ہو” فان طعن في الوالی طاعن لم يخرجه القاضي عن الولاية الا بخيانة ظاهرة،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔