متولی حساب نہیں دیتا تو تولیت سے الگ کرنا اور اس کے پیچھے نماز کا حکم
سوال
بکر کو باتفاق نمازیاں ایک مسجد کا متولی بنا دیا گیا جب عمر کے علم میں آیا تو اس نے آکر نمازیوں کو خوب ڈانٹا، اور دھمکایا، اور کہا کہ اس کا متولی پہلے بھی میں تھا، اور اب بھی میں ہی ہوں، عمر چونکہ دنیا دار مالدار، اور با اثر ہے، لوگ خاموش ہو گئے، اور عمر متولی بن بیٹھا، عمر جس مسجد کا متولی اپنے کو بنایا ہے، اس کی آمدنی کے مختلف ذرائع ہیں، کچھ اوقاف ہیں، کچھ دوکانیں ہیں، لوگ شادی بیاہ میں بھی روپیہ دیتے ہیں، چندہ بھی ہوتا ہے، لیکن عمر کوئی حساب نہیں دیتا، اگر حساب مانگا جاتا ہے، تو لڑنے لگتا ہے، پولس کی دھونس دیتا…
جواب
اگر وہ انتظام اور حساب صحیح رکھتا ہے، خیانت ثابت نہیں تو الگ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس میں فتنہ ہے، اسلئے کہ جب سب نے بالا تفاق بکر کو متولی بنایا تو پھر اپنے اثر وقوت سے عمر زبردستی متولی بن گیا، اور ڈانٹ ڈپٹ کرتا اور پولیس کی دھونس دیتا ہے، جس سے سب خائف ہیں، تو اس کو الگ کیسے کریں گے، اگر وقف کی آمدنی کی چانچ، وقف بورڈ سے کرانے کا انتظام کر دیا جائے، تو یہ صورت قابل اطمینان…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔