ایک متولی کے مظالم
سوال
ہمارے موضع سلطان پور کناری میں ایک جامع مسجد ہے، اس مسجد کے پیچھے ایک حصہ خالی پڑا ہوا تھا، مسجد کو بڑھانے کے لئے اس خالی حصہ میں ایک کھنڈ تعمیر کیا مگر اسکی صرف دیواریں تیار ہوئی تھیں چھت اس پر نہیں ڈال سکے تھے کہ اس کا کام رک گیا، اور کام رکنے کی وجہ یہ ہوئی کہ منشی نور الحسن کا بھائی جس کے پاس مسجد کا روپیہ تھاوہ روپیہ لے کر بھاگ گیا تقریباً ۱۸ ارسال ہو گئے، وہ کھنڈ اسی طرح پڑا ہوا ہے، چند سال پہلے لوگوں نے یہ مشورہ کیا کہ اس حصہ کو چھپوا دینا چاہئے، چنانچہ لوگوں نے پیسہ اکٹھا کر کے امام صاحب کے پاس رکھ دیئے،…
جواب
مسجد وقف اور خدا کا گھر ہے کسی اور کی ملک نہیں، دعوئی ملک کرنا غلط ہے، اور کسی کے دعوی کرنے سے وہ اس کی ملک نہیں ہو جائے گی، جو شخص متولی ہے، وہ امانت دار ہے مالک نہیں، اس کے ذمہ مسجد کا اور مسجد کے متعلق اشیاء کا حفاظت کرنا اور صحیح انتظام کرنا ہے، جس سے مسجد آباد ہو (اور وقف کی ترقی ہو)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔