جدید متولی کا امام کو پریشان کرنا
سوال
جدید متولی صاحب پیش امام مسجد پر اپنی فوقیت جتاتے ہوئے تکلیفیں دے رہے ہیں، ان پر ظلم کر رہے ہیں، جدید متولی صاحب کا کہنا ہے کہ پیش امام نوکر ہے، اور ہم ان پر افسر ہیں، ہماری بات کو ماننا چاہئے پیش امام نے مجبور ہو کر جمعہ کی نماز کے بعد متولی صاحب نے جو تکلیفیں دی ہیں، وہ بیان کیں، متولی صاحب پیش امام پر برہم ہو گئے کہ تم کو کس نے اجازت دی تھی، بغیر اجازت کے تم نے غیر مذہبی باتیں کیوں بیان کیں، ہم تمہارے ساتھ قانونی کارروائی کریں گے، متولی جو کہتے ہیں وہ حق بات ہے یا جو پیش امام نے کہا وہ حق ہے؟
جواب
امام صاحب کا منصب بہت بلند ہے، متولی صاحب کا امام صاحب کو اپنا نوکر سمجھنا اور ذلت آمیز معاملہ کرنا غلط ہے، نا جائز ہے، امام کو بھی اس طرح جمعہ کے بعد مجمع میں متولی کی زیادتیوں کو بیان کرنا نہیں چاہئے تھا، خود متولی صاحب سے دوچار بااثر آدمیوں کی موجودگی میں افہام وتفہیم کے طور پر اپنی تکلیفوں اور پریشانیوں کا تذکرہ کر لیتے کہ یہ یہ پریشانی ہے اس کا حل کیجئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔