متولی مسجد اگر غافل یا خائن ہو تو کیا کیا جائے
سوال
اگر کسی مسجد کے متولیان ومنتظمان مسجد کے انتظام میں غفلت وخیانت کریں، حساب آمدنی وخرچ کو ظاہر نہ کریں اور ان کی غفلت سے مسجد کے انتظام میں خلل واقع ہو جائے اور مسجد کے کسی حصہ کو نقصان پہنچے یا مسجد کے کسی حصہ پر غیر مسلم کا قبضہ ہو جاوے، اور مسجد کی شان وعظمت برقرار نہ رہے تو ایسے منتظمان کو کیا شرعا حق ہے، کہ اپنی نظامت پر قائم رہیں اور کیا مسلمانوں کو حق ہے کہ ایسے لوگوں کو تولیت سے علیحدہ کر دیں، اور ان کی جگہ ان لوگوں کو منتظم بنائیں جو کہ متدین ہوں، اور انتظام مسجد کو مطابق حکم شرح کے قائم رکھیں، براہ کرم…
جواب
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر متولی خائن ہے یا غافل ہے یا عاجز ہے کہ موافق شرع وقف کا انتظام صحیح طور پر نہیں کر سکتا، اور اس سے وقف کو نقصان پہنچتا ہے، نیز یہ چیز شرعی شہادت سے ثابت ہے تو متولی مذکور اس تولیت سے علیحدگی کے قابل ہے یعنی حاکم وقت کے یہاں درخواست دیگر اور متولی کی خیانت کو ثابت کر کے تولیت سے علیحدہ کرا دیا جائے اور اس کی جگہ کسی دیندار صالح امین اور لائق شخص…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔