مسجد کی تولیت میں وراثت
سوال
ایک مسجد قدیم مشہور چھوٹی مسجد واقع ہے، عمارت مسجد میں ضرورت کے وقت مناسب ترمیم واضافہ ہوتا رہا ہے، عام دستور کے مطابق تعمیر مسجد میں اور اس کے بعد ضروریات مسجد میں عام مسلمانوں کا پیسہ ہی صرف ہوتا رہا ہے، عمارت مسجد ایک قاضی صاحب پٹہ شدہ موقوفہ زمین پر ہے، اور قریب ۲۳/۲۲ سال سے اس مسجد میں پیش امام واقف کے ورثاء میں تھا، اس کو اہل محلہ نے کسی خامی کی وجہ سے ہٹا کر دوسرا امام رکھ لیا، جو فی الحال امامت کرتا ہے، اس مسجد کے متصل ایک کنواں رفاہ عام کے لئے بنا ہوا ہے، اس کی ضرورت ختم ہونے کی بنا پر حال ہی میں اہل محلہ…
جواب
مسجد ذاتی روپیہ سے وقف شدہ زمین میں تعمیر کر کے عام مسلمانوں کو اجازت دیدی اور وہاں اذان اور جماعت پنجگانہ اور جمعہ کی نماز شروع ہوگئی، کسی پر کوئی روک ٹوک نہیں، اور محکمہ اوقاف میں اس کا اندراج بھی مسجد ہی کے نام سے ہے، تو بلا شبہ وہ شرعی مسجد ہے اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی، نہ اس پر کسی کا دعوی ملک صحیح ہوگا، نہ وہاں کسی کو نماز پڑھنے سے روکا جائیگا، مسجد قاضیان یا کسی بھی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔