الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تولیت وقف کی تعین

سوال

(۱) میں اپنی یہ جائداد جو اس کاغذ میں لکھی ہے وقف کرتی ہوں۔ (۲) مقرہ تاحیات خود متولیہ جائداد موقوفہ کی رہے گی اور اس کا اہتمام اور انتظام حسب وقف هذا کرتی رہے گی، اور آمدنی جائداد موقوفہ ان اغراض میں صرف کرے گی جو وقف نامہ ہذا میں درج ہیں۔ (۳) بعد وفات منمقرہ کے میرے شوہر خوشوقت جلیل احمد خانصاحب اس جائداد موقوفہ کے متولی رہیں گے اور اہتمام وانتظام جائداد موقوفہ کا کرتے رہیں گے اور آمدنی جائداد موقوفه ان مصارف میں سے کسی مصرف میں صرف کریں گے جو مصارف وقف نامہ ہذا میں درج ہیں۔

جواب

صحت وقف کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کے متولی بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تعیین کردی جائے، بلکہ اگر کسی کو بھی متولی مقرر نہ کرے تب بھی مفتی بہ قول کے موافق وقف صحیح ہو جاتا ہے: لو وقف رجل ارضا له ولم يشترط الولاية لنفسه ولا لغيره ذكر هلال والناطفي ان الولاية تكون للواقف وذكر محمد رحمه الله في السير الكبير انه اذا وقف ضيعة او اخرجها الى القيم لا تكون له الولاية بعد ذلك الا ان يشترط…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو