مسجد کا متولی کیسا ہونا چاہئے
سوال
مہذب حسین ولد محمد حسن متولی مسجد ہونے کا خواہشمند ہے، مہذب حسین کی والدہ بے نکاحی ہی محمد حسن کے نکاح میں تھی، جس سے مہذب حسین پیدا ہوا تھا، مہذب حسین کے پاس جو بیوی ہے وہ بھی بے نکاحی ہے، وہ ولی محمد کی بیوی ہے، ولی محمد سے دو بچے بھی ہیں، ولی محمد نے طلاق بھی نہیں دی ہے، دفعہ ۳۵۴ کے تحت مہذب حسین پر مقدمہ بھی چل رہا ہے، ایک غیر مسلم کے گھر چوری کی اور اس کی بیوی کی آبروریزی بھی کی مسجد کا پیش امام ہونے کا اپنے کو اہل بتاتا ہے، کیا یہ متولی بنایا جا سکتا ہے؟
جواب
مسجد کا متولی ایسے آدمی کو تجویز کیا جائے، جو دیانت دار ہو، مسجد کو آباد رکھنے کا انتظام کر سکتا ہو، آمد وخرچ کا حساب صحیح صحیح رکھ سکتا ہو، سوال میں جو اوصاف مذکور ہیں ان کے پیش نظر شخص مذکور کو مسجد کا متولی ہرگز نہ بنایا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔