الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کے لئے متولی تجویز کرنا

سوال

مستری یا مین ریلوے اسٹیشن مسجد کے متولی ہیں یہ مسجد وقف بورڈ میں نہیں ہے، اور نہ ہی مستری یا مین وقف بورڈ کی طرف سے متولی ہیں، مستری یا مین ۱۹۵۵ء سے یعنی ۲۵ سال سے اس کے متولی ہیں، اس مسجد میں مستقل امام نہیں رہتا صرف جمعہ ہوتا ہے ہر جمعہ کو تقریباً بارہ تیرہ روپیہ چندے کے آتے ہیں اور دونوں کو ٹھریوں کا کرایہ ۱۹ ار روپیہ ماہوار آتا ہے، مستری یا مین سے اگر کسی نے حساب کو کہا تو حساب نہیں دیتے، جمعہ کے چندہ کو گھر لیجا کر رکھ دیتے ہیں، کوئی رجسٹر وغیرہ بھی نہیں ہے، اپنا ذاتی معاملہ اور ذاتی روزگار بنا رکھا ہے، کچھ…

جواب

متولی کا فریضہ ہے کہ وہ مسجد کی آمدنی کا حساب اور مسجد کا نظم اذان اور جماعت کا اہتمام رکھیں محض چندہ وصول کرنے کے لئے متولی نہیں ہوتا۔ اگر فہمائش کے باوجود متولی صاحب امام کا انتظام نہ کریں تو وہاں کے مقامی لوگ کسی مناسب آدمی کو امامت کے لئے تجویز کر دیں، اور اعلان کر دیں کہ امام صاحب کو تجویز کر دیا گیا ہے، چندہ سے ان کی تنخواہ پوری کی جائیگی، لہذا چندہ دینے والے حضرات امام…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو