الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقف کو بدلنا

سوال

زید نے ۱۹۵۶ء میں کچھ زمین قبرستان کیلئے وقف کی لیکن زمین کے سامنے جنکے مکانات تھے، انہوں نے میت کو دفن کرنے سے روکا جسکی وجہ سے کافی دقت پیش آئی، اس وقت کے پیش نظر متولی نے واقف سے دوسری زمین ۶۱ء میں وقف کرائی اسی میں فی الحال قبرستان ہے اور پہلی زمین وقف شدہ غیر مسلم کے ہاتھ فروخت ہوئی اب اس سلسلہ میں مقدمہ چل رہا ہے۔ (۱) وقف اول کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (۲) کیا متولی وقف کو بدل سکتا ہے؟ (۳) دوسرا وقف اس کا بدل شمار ہو سکتا ہے یا نہیں؟ (۴)

جواب

جو زمین وقف کر دی جاتی ہے وہ ہمیشہ کے لئے وقف ہو جاتی ہے اس کی بیچ کا کسی کو اختیار نہیں رہتا، نہ واقف کو نہ متولی کو، اگر بیع کر دی جائے تو وہ شرعاً نا قابل نفاذ ہوتی ہے، ہاں اگر واقف نے یہ شرط کر دی ہو کہ جب زمین قابل انتفاع نہ رہے تو اس کا دوسری زمین سے تبادلہ کر لیا جائے، تو ایسی صورت اس شرط کے ساتھ اس کا تبادلہ درست ہوتا ہے، خواہ زمین کا تبادلہ زمین سے کیا جائے یا زمین کو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو