وقف کو منسوخ کرنا
سوال
ایک شخص نے اراضی ومکان کسی مدرسہ کو وقف کر دیئے، چند سال گذر جانے کے بعد اب وہی شخص اس وقف کو منسوخ کر کے دوسرے کے حق میں وصیت کرنا چاہتا ہے، اور یوں کہتا ہے، کہ میں نے مدرسہ کو وقف نہیں کیا تھا، جب کہ وقف نامہ کی عبارت میں تصریح موجود ہے، کہ اسے اراضی موقوفہ سے کسی قسم کا قبضہ یا تعلق نہیں رہا، سوال یہ ہے کہ کیا شخص مذکور کے اسطرح کہنے سے وقف منسوخ ہو جائے گا، یا نہیں؟ شرعی حکم مع حوالہ کتاب تحریر فرمائیں۔
جواب
وقف تام ہو جانے کے بعد اس کو منسوخ کرنے کا حق نہیں، نہ اس میں کسی قسم کے مالکانہ تصرف کا حق رہا، یعنی واقف نہ اس کو بیچ سکتا ہے اور نہ اس کو ہبہ کر سکتا ہے، نہ وصیت کر سکتا ہے، نہ رہن رکھ سکتا ہے: فاذا تم الوقف ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولايرهن. (در مختار)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔