قادیانی کا وقف مسجد کے لئے
سوال
ایک نقشہ میں ایک مسجد کی جائداد ظاہر کی گئی ہے اس میں آٹھ دوکانیں ہیں جو آٹھ نمبروں سے ظاہر کی گئی ہے، درمیان میں مسجد ہذا کا دروازہ ہے دوکانوں کے سامنے کچھ زمین ہے جو ایک قادیانی کی ہے اور قادیانی مذہب کا پکا پیرو بھی ہے، وہ صاحب اسی زمین کو مسجد ہذا کو وقف کرتے ہیں، قادیانی صاحب کا یہ وقف ہماری مسجد یا جائیداد مسجد کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اگر وہ صاحب یہ جائداد وقف یا کسی طرح مسجد کو زمین نہ دیں تو مسجد یا دوکانوں کا راستہ بند ہو سکتا ہے، جواب طلب امر یہ ہے کہ یہ زمین مسجد میں کس صورت میں جائز ہے؟
جواب
جو مسلمان اپنا اصلی مذہب اسلام چھوڑ کر قادیانی ہو جائے وہ اسلام سے خارج ہو کر مرتد قرار دیا جاتا ہے، مرتد کی کوئی عبادت قبول نہیں، امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس فرقہ میں داخل ہوا ہے اس فرقہ کے نزدیک جن امور میں وقف صحیح ہوتا ہے، ان امور میں اسکا وقف صحیح ہے، اسی طرح مسجد اسکا وقف بھی معتبر ہے، علاوہ ازیں جب اس نے اپنے مالکانہ حقوق ختم کر دیئے اور مسجد کے حوالہ زمین…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔