سنیما وغیرہ والے آدمیوں کا وقف اور اسکی آمدنی دینی کاموں میں خرچ کرنا
سوال
میرٹھ میں نادر علی کی فیکٹری باجہ بنانے کی ہے، اور ان لوگوں کے سنیما بھی ہے، نیز ان نادر علی کی طرف سے ایک وقف ہے، جس کے ماتحت کافی جائیداد اور مکانات ہیں، اور یہ وقف مدارس اسلامیہ کی امداد اور ان کے قائم کردہ مکاتب کے معلمین کی تنخواہ ادا کرتا ہے، وقف بہر کیف ان ہی لوگوں کا کیا ہوا ہے، اب جن معلمین کو تنخواہ ملتی ہے، وہ مساجد میں امام بھی ہیں، لہذا ان لوگوں کو نادر علی وقف سے تنخواہ لیتے ہوئے امامت کرنا اور لوگوں کا اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں، اگر درست ہو تو کیوں؟
جواب
باجہ بنانا اور فروخت کرنا اور سنیما کا کام کرنا منع ہے، باجہ بنا کر اس کی بیچ سے قیمت حاصل کرنا مکروہ ہے، مسلمان جب اپنی آخرت درست کرنے کے لئے ثواب کی نیت سے کوئی کام کرتا ہے تو اس میں خراب روپیہ خرچ کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہے، متعدد لوگوں کو دیکھا کہ وہ حج کے لئے اور مدرسہ ومسجد میں دینے کے لئے حلال روپیہ جمع کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ حرام روپیہ دینی کاموں کے لئے خرچ نہیں کیا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔