جائداد وقف تقسیم سے مملوک نہیں ہوتی
سوال
ایک جائداد عبد الحق صاحب کی تھی ان کے تین بیٹے تھے ان کے دو مکان خام مع سائبان خشبوش بنا ہوا تھا، کوئی تقسیم وغیرہ نہیں تھی لیکن بوجہ نانش ڈنگروں کی وجہ سے ایک مکان اور جملہ جائدادان سے بچانے کی وجہ سے مشورہ کر کے منجھلے بھائی کی بیوی کے نام بابت مہر ۱۹۱۱ ھ بیع نامہ میں لکھ دیا تھا اس کے بعد برابر رہتے رہے، اس کے بعد دو بھائیوں کا انتقال ہو گیا اور منجھلے ہی حیات رہے بڑے بھائی کی اولاد سے منجھلے بھائی جن کا نام عبدالغنی تھا، بقیہ حصہ بیع نامہ ۱۹۳۳ء میں کرالیا چند دنوں کے بعد عبد الغنی کے ایک لڑکا اصغر علی نام کا…
جواب
مکان وزمین مشترک ہو تو کسی بھی حصہ دار کو اپنا حصہ وقف کر دینا درست ہے، تقسیم کرنا پہلے سے لازم نہیں جس طرح کہ حصہ مشترکہ کی بیع درست ہے۔ فقط سوال: (۲) صابر علی گڑھی ہی میں رہا اور اس نے اس مکان کا ملبہ اتار کر گڑھی میں جمع کیا تو کیا اس حالت میں وقف رہ گیا۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔