کیا موقوفہ زمین پھر مملوکہ بن سکتی ہے
سوال
حاجی عبد الواحد چار بھائی تھے، دو بڑے بھائی رحمت اللہ وعبد الحفیظ کا انتقال ہو گیا اور والد کا انتقال ۱۹۲۷ء، ۱۸ جنوری کو ہوا محلہ کے قریب عام قبرستان سے ملحق ایک پرانی آراضی تھی اس میں اول والدہ کے بعد والد کو دفن کیا گیا، چاروں بھائیوں نے مشورہ کر کے زمین کو اس پرانی آراضی کی قیمت مبلغ دو سو روپے ادا کر کے خرید لیا، اس خیال سے کہ کچھ حصہ میں مدفون ہیں، اس کو ذاتی قبرستان بنالیا جائے، چنانچہ بڑے بھائی عبدالحفیظ کے نام سے ۱۹۲۸ء میں نقشہ پاس کرا کر بموجب نقشہ مسجد تعمیر ہوئی اور اس سے ملحق مسجد کی دو کوٹھری تعمیر…
جواب
جب مملوکہ زمین مالک سے خریدی اور بیع تام ہو کر اس پر مسجد بنائی اور کچھ زمین کو ذاتی قبرستان (غیر موقوفہ) بنایا تو بلا شبہ وہ مسجد شرعی مسجد بن گئی اس میں جو نماز جمعہ وغیرہ ہوتی رہی سب درست ہے۔ جو محافظ نگراں وہاں رہتا تھا اس کی خوشی وعدم خوشی کو اس میں کوئی دخل نہیں پیش از پیش وہ معاوضہ حفاظت کا حق دار تھا، اگر اس سے کوئی معاملہ کیا گیا تھا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔