الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقف کے بعد اس کی تملیک

سوال

اب سے دس سال پہلے جناب ابو قلندر صاحب نے پونا شہر کے مضافات میں کاتریج میں پانچ گنڈے زمین مکان کی غرض سے خریدی تھی فونڈیشن پائے کی بنیاد بھی شروع ہوگئی تھی، تقریباً دو سال گذرنے کے بعد ان کے پاس حافظ ادریس اور چند علماء کرام اس غرض سے تشریف لے گئے کہ پونا میں کوئی مدرسہ نہیں ہے اور ہم سب مدرسہ کی خاطر جگہ کی تلاش میں ہیں جناب ابو قلندر صاحب سخاوت اور فراخ دلی میں اپنی مثال آپ ہیں اور سب حضرات ان کی سخاوت سے واقف ہیں، بہر حال ابوقلندر صاحب نے فرمایا کہ میں اپنی پانچ گنڈے زمین جو کاتریج میں ہے مدرسہ کے لئے فی سبیل…

جواب

جو زمین وقف کر کے اپنی ملکیت ختم کر کے اللہ کی ملکیت میں دیدی جائے، اپنا قبضہ مالکا نہ ہٹا کر اس کو اللہ کر دیا جائے تو اس کی بیع درست نہیں اور وہ زمین مملوک بننے کے قابل نہیں رہی، یہ بھی درست نہیں کہ نیچے کے حصہ میں اپنا کاروبار کیا جائے اور اوپر کے حصہ میں مدرسہ بنادیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو