کتنی زمین وقف سمجھی جائے جبکہ واقف کی طرف سے حد متعین نہ ہو جانوروں کی غلاظت کا حکم خشک ہو جانے پر
سوال
ہمارے یہاں ایک عید گاہ ہے جس میں لوگ قدیم زمانے سے نماز عید ادا کرتے چلے آرہے ہیں، بعد میں چل کر اختلاف ہو گیا اس زمین کے بارے میں کہ زمین ایک بیگہ تھی یا نصف بیگہ تھی، واقف کی وفات ہو گئی اس کی اولاد واقرباء کہتے ہیں کہ زمین نصف بیگہ تھی لیکن گاؤں کے عام آدمی زمین کا حد طول وعرض دکھاتے ہیں، جس میں تقریباً ایک بیگہ یا اس سے کم یا کچھ زائد ہو جاتا ہے، اب واقف کی اولاد نے زمین آدھا بیگہ چھوڑ کر بقیہ حصہ بیچ دیا، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ کن کے قول کا اعتبار ہوگا جب کہ وارث آدھا بیگہ سے زائد کا انکار کرتا ہے، اور…
جواب
جبکہ وقف نامہ موجود نہیں اور اس زمین میں کچھ علامات بطور حد بندی کے نہیں لگائی گئی ہے اور نہ کوئی اس بات کا گواہ ہے کہ واقف نے یہاں سے وہاں تک ہم کو بتا کر وقف کی ہے، تو ایسی حالت میں واقف کے ورثاء جتنا حصہ عید گاہ کے لئے وقف بتا ئیں اس کو ہی وقف تسلیم کیا جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔