وقف زمین پر غاصبانہ قبضہ
سوال
مدرسین میں سے ایک کے والد اور بڑے بھائی نے جو اس وقت انتقال کر چکے ہیں، کچھ زمیں مدرسہ کے نام وقف کر رکھی تھی، بیس سال سے اس زمین کی آمدنی مدرسہ میں آتی رہی، اب اس مدرس نے جسکے والد نے زمین مدرسہ میں دی تھی، مدرسہ سے علیحدہ کر نیکی بناء پر اس زمین کی آمدنی اور زمین بھی غصب کر لی ہے، آیا انکی یہ حرکت شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
بلا شبہ یہ غصب ہے اور یہ سخت گناہ ہے کہ اس زمین کو واگزار کرانیکی پوری کوشش کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔