شراب کی آمدنی سے زمین خرید کر مدرسہ میں وقف کرنا
سوال
شراب کی تجارت کی آمدنی سے خریدی ہوئی زمین کسی مدرسہ میں یا کسی مسجد میں وقف کی جاسکتی ہے یا نہیں؟
جواب
اگر مال حرام کو متعین کر کے اس کے بدلہ میں حلال مال خریدا ہے اور پھر وہی حرام مال متعینہ قیمت میں ادا کر دیا ہے، تب تو اس کی آمدنی نا جائز ہے اس کو غرباء ومساکین پر صرف کر دیا جائے کسی اور کار خیر میں لگانا یا اپنے کام میں خرچ کرنا شرعاً درست نہیں اگر بغیر تعین مال حرام کوئی مال حلال خریدا اور پھر وہ مال حلال قیمت میں ادا کر دیا یا متعین تو کیا مال حرام کو مگر ادا کیا مال حلال…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔