وقف على النفس وعلی الاولاد حسب حصص
سوال
(الف) ایک شخص نے اپنی جائداد اپنی حیات تک اپنی ذات پر اس کے بعد اولاد در اولاد نسلاً بعد نسل بطنا بعد بطن حسب ارث شرعی وقف کی۔ واقف کی زندگی میں اس کی بیٹی یا بیٹا فوت ہو گیا لیکن اس کی اولاد باقی ہے، تو کیا بعد وفات واقف متوفی کی اولاد کو حصہ دیا جائے گا؟ (ب) اگر یہ شرط لگائی گئی کہ حصہ صرف وہ ہی پاتے رہیں گے جو میری نسل سے ہوں گے، یعنی لڑکیوں کے شوہر یا لڑکوں کی بیویاں جو (غیر نسلی)
جواب
(الف) اگر متوفی کی اولاد کو واقف کی وراثت پہنچتی ہے، تو حسب حصص شرعیہ وقف سے حصہ ملے گا، اگر وہ دیگر ورثہ کی وجہ سے محروم الارث ہے تو وقف سے حصہ نہیں ملے گا، کیونکہ واقف نے مطلقاً وقف علی الاولاد نہیں کیا بلکہ اپنی وفات کے بعد وقف علی الاولاد کیا ہے اور اس کو بھی حسب ارث شرعی کی قید سے مقید کیا ہے، نیز نسلاً بعد نسل بطنا بعد بطن“کی قید لگائی ہے، لہذا جب تک بطن اول موجود ہو بطن…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔