الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقف کی نیت سے خریدنے سے وہ ملکیت وقف نہیں ہو جاتی

سوال

دو آدمیوں نے مل کر ایک زمین وقف کی نیت سے عوام کے فائدہ کے لئے کنواں کھودنے کی غرض سے خریدی تھی، اور کنواں کھودنے کے بعد پانی نکلا مگر خراب ہونے کی وجہ سے پینے کے استعمال میں نہیں آسکا دوسری چیزوں کے استعمال میں آتا ہے، اور مدت طویل تک یہ کنواں پڑا رہا کسی نے استعمال میں نہیں لیا۔ ان دونوں میں ایک نے وطن میں آکر اس کنویں کو بھر دیا اور کرایہ پر دینے کے واسطے اپنا ذاتی مکان اس کنویں پر بنا لیا اور اس جگہ پر دو روم نیچے کے حصہ میں اور دو روم اوپر کے حصہ میں بنائے اور اس مکان کو اپنے نام سے موسوم کیا کہ فلاں منزل،…

جواب

ا - محض وقف کی نیت سے خریدنے سے تو زمین وقف نہیں ہوتی، ایک شریک یا دونوں شریک نیت تبدیل کر کے ذاتی مکان بنوالیں تو شرعاً گنجائش ہے، لیکن اگر خرید کر وقف کر دی اور کنواں بنوا کر زبانی کہہ دیا ہو یا تحریر لکھ دی ہو کہ زمین ہم نے وقف کر دی تو پھر اس کو ذاتی ملک تجویز کرنا اور ذاتی مکان بنانا درست نہیں اس مکان کو بھی وقف ہی قرار دیا جائے یا وہ زمین وقف رہے اور مکان ذاتی ملک رہے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو