الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقف کی نیت کی پھر رائے بدل گئی

سوال

ایک زمین میں نے دوسو روپے میں خریدی اور دل میں یہ طے کر لیا کہ آدھی زمین شہریوں کی ایک مسجد میں وقف کر دوں گا، جو مقام زمین سے کم وبیش بائیس میل کے فاصلہ پر ہے اور نصف زمین مقامی تین مساجد میں وقف کر دوں گا برابر کے طور پر ابھی وقف نامہ میں نے تحریر نہیں کیا ہے، اب سوچتا ہوں کہ نصف زمین کو مقامی تین مساجد میں برابر حصہ زمین کا دینا کسی مصرف کا نظر نہیں آتا کہ اتنے حصہ زمین کو ہر مسجد والے کسی کام میں نہیں لا سکتے اور تینوں مسجدوں میں بالکل کم رقبہ کی زمین منفعت بخش نہیں ہو سکتی تو کیا دل میں طے کر دہ بات تبدیل…

جواب

اگر محض دل میں سوچا تھا کہ زمین فلاں فلاں جگہ اس نیت سے وقف کر دوں گا، پھر غور کرنے سے مصلحت اس کے خلاف معلوم ہوئی تو پہلے سوچے ہوئے کو بدلنے کی بھی اجازت ہے جہاں زیادہ وقف کرنا مناسب ہو وہاں زیادہ وقف کر سکتے ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو