الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقف علی الاولاد میں تقسیم کی صورتیں

سوال

حاجی کلیم مرحوم نے اپنی جائیداد کا ایک وقف نامہ علی الاولاد تحریر کیا ہے، اس میں واقف کی اولاد ہی کو حق پہونچتا ہے، یا واقف (مرحوم) کے اپنے چچازاد بھائیوں کو بھی حق پہونچتا ہے۔ وقف نامہ حاضر ہے، ملاحظہ فرما کر تحریر فرمائیں کہ یہ وقف علی الاولاد رہے گا یا وراثت میں رہیگا؟ اور کس کس کو کتنا حق پہونچتا ہے، تقسیم کر کے بتلا دیجئے بوقت انتقال واقف مرحوم نے حسب ذیل ورثاء چھوڑے۔ زوجه لڑکیاں لڑکا چچازاد بھائی نواسہ ان کی والدہ مسماۃ بانو کا انتقال واقف کی حیات میں ہو گیا تھا۔ فقط (نوٹ)

جواب

اس وقف نامه منسلکہ کا نام اگر چہ وقف نامه علی الاولاد رکھا گیا ہے مگر یہ نام اپنے حقیقی معنی میں نہیں اس لئے کہ واقف نے اپنی ذات کو تیسری بیوی کے ساتھ آئی ہوئی رہیبہ نور جہاں کو اور اپنی چوتھی بیوی کو اور مسجد گل شہید کو بھی منافع وقف کا مصرف قرار دیا ہے جو کہ واقف کی اولاد نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو