وقف مشترک
سوال
اگر کوئی جائداد مدرسہ مدینہ منورہ اور ہندوستان کے ادارے میں مشترک ہے اور گوناگوں مشکلات کی وجہ سے مدرسہ مدینہ منورہ کو اس کا حصہ پہنچانا ناممکن ہے اور اندریں صورت مدرسہ مدینہ منورہ کے متولی نے یہ کہہ دیا ہے کہ کل جائداد اپنے حصہ میں لگائی جائے تمام جائداد کی آمدنی پہلے ادارے میں صرف کی جائے کیونکہ فقہی مسئلہ ہے کہ اگر ایک مسجد کی کوئی شی اس مسجد میں کار آمد نہیں ہو سکتی اور ضائع ہوتی ہو تو دوسری مسجد میں اس کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ تو حسب ذیل امور دریافت طلب ہیں۔ (۱) کیا ایسا ہوسکتا ہے (۲)
جواب
فقہاء کا کلیہ ہے شرط الواقف كنص الشارع الا ما استثنى. جب واقف نے ایک موقوف علیہ مثل مدرسہ مدینہ منورہ کی تصریح کر دی تو اب اس کو خود بھی تبدیل کرنے کا حق باقی نہیں رہا، وہاں کے متولی کا یہ کہنا کہ کل جائداد اپنے حصہ میں لگا لی جائے بے سود اور نا قابل التفات ہے فقہاء نے ایک مسجد کی شئی دوسری مسجد میں منتقل کرنے میں یہ قید لگائی ہے کہ لوگوں کو اس مسجد کی حاجت باقی نہیں رہی خواہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔