الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عقیقہ میں لڑکے کا ایک حصہ رکھنا

سوال

زید اپنے بچوں کا عقیقہ کرنا چاہتا ہے، جن میں دولڑکے اور ایک لڑکی ہے تو کیا ان بچوں کے لئے ایک بھینس کافی ہو سکتی ہے؟ یا ہر ایک لڑکے کی جانب سے دو حصہ لگانا ضروری ہے، اور پھر اس کے عقیقہ نہیں ہو گا؟

جواب

ایک روایت میں لڑکے کی طرف سے ایک بکرے کے عقیقہ کو کافی قرار دیا ہے، اگرچہ لڑکوں کی طرف سے ایک ایک حصہ ہوں اور ایک لڑکی کی طرف سے ہو اور ایک بھینس اس مقصد کیلئے ذبح کر دی جائے، تب بھی اس کا عقیقہ ہو جائیگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو