الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گابھن بکری کے دو بچہ دینے پر عقیقہ کا ارادہ کرنا

سوال

میں نے ایک گابھن بکری خریدی اور زبان سے کہا کہ اگر ایک یا دو بچے دے تو لڑکے کا عقیقہ کروں گا، خدا نے دو ہی بچے دیئے، بے روزگاری و مقروض ہونے کی وجہ سے سال بھر تک پالنا مشکل معلوم ہو رہا ہے، خود میرے والد صاحب بھی مصر ہیں، کہ ان کو فروخت کر دو، خود میں بھی خرچہ سے پریشان ہوں ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟ فروخت کئے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ بوقت وسعت خرید کر عقیقہ ہو سکتا ہے کہ نہیں؟

جواب

صرف اتنا کہنے سے آپ کے ذمہ ان بکروں کا پرورش کرنا اور سال بھر پورا ہو جانے پر ان کا عقیقہ کے لئے ذبح کرنا ضروری نہیں، آپ ان کو فروخت کر سکتے ہیں، پھر قربانی کے وقت یا کسی دوسرے وقت بھی عقیقہ کرنا واجب نہیں، آپ کے پاس وسعت ہو اور دل چاہے تو کر دیں ورنہ کوئی پکڑ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو