حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عقیقہ
سوال
کتب فقہ کی متعدد کتب مثلاً مسائل الاربعین وغیرہ میں ۲۱/۱۱/۷ دن مہینہ سال وغیرہ میں کرنے کی اجازت تحریر ہے، اور بعض مولوی مثال دیتے ہیں کہ جناب آقائے نامدارﷺ نے اپنا عقیقہ نبوت کے بعد کیا تھا، اس لئے عمر بھر میں جب چاہیں کر لیں، حضور اکرم ﷺ نے اپنا عقیقہ بعد نبوت کیا تھا، اس وقت تک احکام عقیقہ نازل نہیں ہوئے تھے، یا آپ کو شبہ تھا، کہ بچپن میں عقیقہ ہوا یا نہیں، جیسا کہ مظاہر حق باب عقیقہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عقیقہ کے متعلق شک تھا؟
جواب
شرح سفر السعادۃ ص۴۸۳ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے، کہ حضور اکرم ﷺ کو اپنے عقیقہ کا علم نہ تھا، اس لئے اپنا عقیقہ کیا تھا، اس روایت کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح بخاری ص ۵۸۴/ج۹/ میں نقل کر کے اس کی سند پر کلام کیا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔