الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عقیقہ وقربانی میں فرق

سوال

عقیقہ کا حکم مثل قربانی کے ہے کہ نہیں اگر ہے توران دائی کو اور سری حجام کو اور ہڈیاں توڑنا جو مستحب لکھا ہے، تو مثل قربانی کے حکم کہاں ثابت ہوا، اور استحباب حضور ﷺ کے قول و فعل سے ثابت ہے یا حضرات ائمہ کا ارشاد ہے، یا فقہاء کا؟

جواب

قربانی واجب ہے عقیقہ مباح ہے، اور بہت سے بہت مستحب ہے وہ بھی جبکہ بنیت عبادت کیا جائے، دیگر ائمہ کے نزدیک بھی مستحب ہے، پس حنفیہ کے نزدیک تو کسی حال میں قربانی کے مثل نہیں اور دوسرے ائمہ کے نزدیک بھی نہیں، کیونکہ واجب اور مستحب میں تفاوت عظیم ہے، بلکہ صاحب ہدایہ کا رجحان تو اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ مکروہ ہے، عالمگیریہ وغیرہ میں بھی کراہت کی ایک روایت نقل کی ہے، العقيقة عن…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو