الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عقیقہ دیر سے کرنے کی صورت میں بچہ کے بال اُتارنے میں دیر نہ کی جائے

سوال

بچے کے سر کے بال پیدائش کے ساتویں دن ہی اتروانا ضروری ہے، یا عقیقہ جب کیا جائے، جب اتروایا جائے؟ عقیقہ سے قبل یا بعد بال اتروا کر چاندی ہم وزن کر کے خیرات کی جاسکتی ہے؟ یا عقیقہ تک بالوں کو رکھنا چاہئے؟ چونکہ عقیقہ کرنے کی اب استطاعت نہیں ہے، ایک سال یا دو سال بعد کرنے کا ارادہ ہے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟

جواب

ساتویں دن مستحب ہے، اگر اس وقت موقع نہ ہو تو چودھویں روز پھر اکیسویں روز، یہ ترمذی شریف میں ہے، اس کے بعد اگر کرنا ہو تب بھی پیدائش سے ساتویں روز کی رعایت کر لی جائے، عقیقہ خود واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، اس کے لئے اتنا اہتمام اور اصرار بھی نہیں کہ کرنا ضروری ہو، سال دو سال بعد عقیقہ کرنا ہو تو اس وقت تک بالوں کا سر پر رکھنا لازم نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · اردو