سب قربانیوں کے گوشت کو جمع کر کے تقسیم کرنا
سوال
اگر کسی بستی کے تمام مسلمان اتفاق قائم رکھنے کی غرض سے قربانی کے گوشت کو طریقہ مستحبہ کے مطابق تین حصہ کر کے ایک حصہ جو خویش واقارب کا ہے ایک جگہ جمع کیا، مگر چند حضرات نے اعتراض کیا کہ ہم لوگ خویش واقارب کا حصہ جمع نہیں کرینگے، غرباء ومساکین کا حصہ جمع کر دیں گے، اس طرح جمع شدہ گوشت میں نصف صرف غرباء و مساکین کا حق رہا اور نصف جو خویش واقارب کا حق ہے، اس میں بھی غرباء و مساکین کا حق بہ حیثیت قرابت و خویشی ثابت یا قائم ہے، لہذا جمع شدہ گوشت کے چار بھاگ کا تین بھاگ صرف غرباء ومساکین کا حصہ ہے، مگر ذمہ دار حضرات نے…
جواب
قربانی کے گوشت کو تین حصہ قرار دینا ایک اپنے گھر کے لئے ایک خویش واقرباء کیلئے ایک غرباء ومساکین کے لئے یہ محض سنت ہے، واجب نہیں، گھر کے آدمی زیادہ ہوں تو سب گھر میں رکھ لینا بھی درست ہے، دل چاہے تو سب غرباء ومساکین پر تقسیم کر لینا بھی درست ہے، اس اتفاق کی کیا ضرورت پیش آئی کہ سب گوشت ایک جگہ جمع کر کے تقسیم کیا جائے، اگر ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق اپنی قربانی کا گوشت جس طرح…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔