الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خدمت گزاروں کو قربانی کا گوشت

سوال

متعدد جگہ دستور ہے کہ قصائی، نائی، دھوبی، بھنگی بھی قربانی کا گوشت مانگتے ہیں اور ان کو دیا بھی جاتا ہے، اگر نہ دیا جائے، تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا حق مار لیا اور بہت ناراض ہوتے ہیں، تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے، آیا ان کا اپنا حق الخدمت سمجھنا اور اس بناء پر ان کو دینا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

یہ حق الخدمت سمجھنا بھی غلط ہے، اور اس طرح دینا بھی منع ہے، اگر اس طرح دیدیا ہے، تو جس قدر دیا ہے، اس کی قیمت صدقہ کر دی جائے۔ شامی ص۲۰۹/ج۵ سے بغیر حق الخدمت کے دیا جائے تو مضائقہ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو