قربانی کے گوشت سے ایصال ثواب اور مروجہ فاتحہ
سوال
ہندوستان میں بعض اشخاص کے یہاں یہ دستور ہے کہ مردوں کی ارواح کو ایصال ثواب یعنی فاتحہ کرنے کے لئے قربانی والے گوشت سے مردوں کی فاتحہ نہیں دلاتے بلکہ کہتے ہیں کہ جس شخص کے نام سے قربانی ہوتی ہے، اس کو ثواب ملے گا اس گوشت کا اس لئے علیحدہ گوشت منگوا کر بعد پکانے کے مردوں کی فاتحہ دلاتے ہیں، ہندوستان کی یہ جاہل رسم قابل ترک و بدعت ہے یا نہیں، عوام کا یہ کہنا ہے کہ قربانی کا ثواب جس کے نام کیا مل گیا، سب ارواح کو نہیں ملے گا، اور نہ اس گوشت سے ثواب ملے گا، کیونکہ قربانی والا گوشت تو وہی ہے، اس لئے علیحدہ خریدتے ہیں۔
جواب
عوام کا یہ عقیدہ اور خیال غلط و باطل ہے جس نے قربانی کی اس کو ثواب نفس قربانی کا ملا ہے، گوشت کو خدا کے واسطے دینے کا ثواب مستقل ہے، قربانی کی وجہ سے اس میں کمی نہیں آتی۔ طریقہ مروجہ پر یعنی کھانا سامنے رکھ کر اس پر فاتحہ پڑھانا بھی شرعاً بے اصل ہے، اور بدعت ہے کہ اس کا ترک ضروری ہے، بلا التزام تاریخ و ہیئت وغیرہ کے جب توفیق ہو غلہ، کھانا، کپڑا، نقد، جوتہ، وغیرہ دے کر یا نماز،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔