چرم قربانی امام کیلئے
سوال
(۱) بکر امام صاحب نصاب ہے، اور امامت کے معاوضہ میں چرم قربانی لیتا ہے، چرم کی قیمت نہیں لیتا ہے، بکر کے لئے چرم قربانی جائز ہے، کہ نہیں اور لوگوں کی قربانی جائز ہے کہ نہیں؟ (۲) بکر امام صاحب نصاب ہے چرم قربانی معاوضہ میں نہیں لیتا ہے، بلکہ کہتا ہے کہ اگر آپ لوگ خوشی سے دیں تو صاحب نصاب کو چرم قربانی لینا جائز ہے، کیونکہ اگر قربانی کرنے والا صاحب نصاب چرم قربانی کو اپنے تصرف میں لائے یا کسی اور شخص صاحب نصاب کو دے تو جائز ہے، کیونکہ چرم قربانی خیرات کرنا مستحب ہے، کیا بکر امام صاحب نصاب کو بغیر معاوضہ چرم قربانی…
جواب
معاوضہ میں جس طرح قیمت نا جائز ہے چرم قربانی بھی ناجائز ہے، اس کی واپسی ضروری ہے، قربانی تو درست ہے مگر مقدار چرم کا اس حالت میں صدقہ کرنا ضروری ہوگا، یہ تو صحیح ہے کہ چرم قربانی صاحب نصاب کو دینا درست ہے، جس طرح کہ محم قربانی دینا درست ہیں حتی کہ ہے کے مگر عادہ ائمہ مساجد اپنا حق سمجھتے ہیں، اگر ان کو نہ دیا جائے، تو ناراض : ہوتے مسجد چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جاتے ہیں، اگرچہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔